یہ دن بہت ہی سخت گذرے بالکل تاریک، شب دیجور کی مانند۔ ان دو دنوں میں کوردل منافقین نے وسیع دہشت گردانہ کاروائیاں کرکے دسیوں افراد کو شہید کیا تا ہم انقلابی و سیاسی و دینی شخصیات کے قتل کی دوسری لہر کے شروع میں وہ ناکام ہوگئے۔ انھوں نے یہ نئی لہر اس وقت کے تہران کے امام جمعہ اور آج کے رہبر انقلاب اسلامی حضرت ایت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای پر تہران کی مسجد ابوذر میں خطاب کے دوران بم حملے سے شروع کردی جس میں وہ ناکام ہوگئے۔ اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے ان ایام میں امریکہ و اسرائیل و دیگر مغربی قوتوں اور ان کے اندرونی دہشت گرد ساتھی ایم کے او کے منافقین کی اندھادھند دہشت گردی، انقلاب اسلامی اور ایران کے سیاسی و دینی راہنماؤں کی شہادت اور ایرانی عوام کی بے مثال شجاعت و استقامت کی یاد اور آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے منافقین کے دہشت گردانہ حملے سے بال بال بچ جانے کے شکرانے کے عنوان سے ایک خصوصی مجلہ نشر کرنے کا عزم کررکھا ہے اس خصوصی مجلے کا عنوان "... سر خم مے سلامت" رکھا گیا ہے۔ اس مجلے کا ایک بنیادی ہدف پیروان اہل بیت (ع) کو رہبر انقلاب کی علمی و ثقافتی شخصیت سے روشناس کرانا ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سلسلے میں اگر ایک طرف سے دشمنان اسلام نے منفی تشہیراتی مہم چلا رکھی ہے تو دوسری طرف سے دوستوں نے بھی غفلت کا راستہ اپنایا ہے اور رہبر معظم کی شخصیت شیعہ معاشروں سے مخفی رہی ہے اور یہ افسوس کی بات ہے کہ عالم اسلام کے بے مثل و بے مانند رہبر اور شیعیان عالم کے مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کو ہم نہیں پہچان سکے ہیں۔اس مجلے میں رہبر معظم کے یوم پیدائش (14 جولائی) تک نئے مضامین، پیغامات و اظہارات و آراء درج کئے جاسکیں گے۔ چنانچہ تمام دوستوں اور قارئین و صارفین کے ہاں اگر رہبر معظم کی شخصیت کے بارے میں کوئی بھی مضمون و مطلب ہے وہ ابنا ویب سائٹ کے آراء کے خانے میں یا پھر ایمیل ایڈریس akhbareshia@yahoo۔com پر ہمیں ارسال فرمائیں۔ ۔۔۔۔۔
/110
مجلے کا عنوان فصیح الدین شیرازی کی ایک غزل سے مأخوذ ہے:
بشکست اگر دل من به فدای چشم مستت سر خم می سلامت شکند اگر سبویی
اس موضوع کی مناسبت یہ ہے کہ جب رہبر معظم سے زخمی ہونے کے بعد پوچھا گیا کہ امام خمینی رحمۃاللہ علیہ نے آپ کا حال پوچھا ہے؛ آپ کیسے ہیں؟ تو انھوں نے جواب میں فرمایا:
بشکست اگر دل من به فدای چشم مستت سر خم می سلامت شکند اگر سبویی
ترجمہ: اگر دل میرا ٹوٹ بھی گیا تو تیری مست آنکھوں پہ قربان
خم مے سلامت رہے خواہ سبو ٹوٹ ہی جائے
..........
متعلقہ مضامین:
- امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) و دیگر شخصیات کا رد عمل
- رہبر انقلاب اسلام حضرت آیت اللہ العظمی سید علی حسینی خامنہ ای کی علمی زندگی